تصوّر کی بلندی بے لگام اتنی نہیں چھوڑو
حدودِ آسماں کے بعد سانسیں اکھڑی جاتی ہیں
مزید دیکھیں
صدا اِس قدر زور آور ہو کافی دور تک جائے
اثر خاموش اتنا ہو سبھی کو کھینچ لے آئے
تصور میں ہی جس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے
زیارت کر کے اُن کی وہ افاقہ کیسے کر پائے
مزید دیکھیںاثر خاموش اتنا ہو سبھی کو کھینچ لے آئے
تصور میں ہی جس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے
زیارت کر کے اُن کی وہ افاقہ کیسے کر پائے
آہ! عم محترم حضرت مولانا مفتی محمد حنیف عبد المجید زمزمی صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ (م: 2025ء)
"امیرِ" لشکر، رخِ منوّر، "حنیف" گوہر کہاں سے لائیں
سلیم فطرت، عدیم جوہر، شفیق رہبر کہاں سے لائیں
بچھڑنے والے کی یاد آئے بہت ستائے تو کیا کریں ہم؟
جدائی کے غم پہ ضبط میرے خدائے برتر! کہاں سے لائیں
جب ان کی صورت خیال میں مسکرا کے دل چیر ڈالے اپنا
دلوں کی دنیا کی اس قیامت کا کوئی منظر کہاں سے لائیں
وہ جن کا ظاہر تمام سنت، وہ جن کا باطن تمام امت
خدا کے بندے اب اپنے ماتھے کا ایسا جُھومر کہاں سے لائیں
لباس سادہ، کلام عمدہ، بیان شُستہ، تفکّر اعلیٰ
تمام پھولوں کی خوشبوؤں کا حسین مظہر کہاں سے لائیں
فلک کا تارا، کِیا کنارا، زمیں پہ اشکوں کا بہتا دھارا
مُداوا کردے جو دردِ دل کا وہ مشک و عنبر کہاں سے لائیں
چراغ تو بجھ گیا ہے ؔہانی! سراغِ منزل کا کیا بنے گا؟
زمیں میں پتّھر بہت ہیں پر اُن سا لعل جوہر کہاں سے لائیں
مزید دیکھیں"امیرِ" لشکر، رخِ منوّر، "حنیف" گوہر کہاں سے لائیں
سلیم فطرت، عدیم جوہر، شفیق رہبر کہاں سے لائیں
بچھڑنے والے کی یاد آئے بہت ستائے تو کیا کریں ہم؟
جدائی کے غم پہ ضبط میرے خدائے برتر! کہاں سے لائیں
جب ان کی صورت خیال میں مسکرا کے دل چیر ڈالے اپنا
دلوں کی دنیا کی اس قیامت کا کوئی منظر کہاں سے لائیں
وہ جن کا ظاہر تمام سنت، وہ جن کا باطن تمام امت
خدا کے بندے اب اپنے ماتھے کا ایسا جُھومر کہاں سے لائیں
لباس سادہ، کلام عمدہ، بیان شُستہ، تفکّر اعلیٰ
تمام پھولوں کی خوشبوؤں کا حسین مظہر کہاں سے لائیں
فلک کا تارا، کِیا کنارا، زمیں پہ اشکوں کا بہتا دھارا
مُداوا کردے جو دردِ دل کا وہ مشک و عنبر کہاں سے لائیں
چراغ تو بجھ گیا ہے ؔہانی! سراغِ منزل کا کیا بنے گا؟
زمیں میں پتّھر بہت ہیں پر اُن سا لعل جوہر کہاں سے لائیں
"جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی"
گلستانِ بنوری پھول تیرےسب نرالے ہیں
ترے دامن میں بستے کیسے کیسے اللہ والے ہیں
جمالِ یوسفی میں راز تیرے حسن کا پنہاں
تری شادابیوں کے ہر گلستاں میں حوالے ہیں
کمالِ احمدی میں جو عروجِ جاوداں پایا
اُسی فتح و ظفر کے اب تلک ہر سُو اُجالے ہیں
ترے ہر پھول کی خوشبو عجب تسکین رکھتی ہے
ترے آنگن نے سارے ہی شجر پھل دار پالے ہیں
حبیب اللہ، مولانا عطاء، یوسف، نظام الدین (رح)
شہادت کا جو میداں ہو تو سب کے سب جیالے ہیں
سرورِ قلب ہے بھرپور تیری ان فضاؤں میں
خدا نے خوب انوارات اس میں بھر کے ڈالے ہیں
بصورت احمد و امداد تجھ پر خیر برسا ہے
جواہر قیمتی تیرے لیے رب نے سنبھالے ہیں
محب، انعام، قاسم، غزنوی، سجاد، فضل و زیب
فرامینِ نبوت کے بہت اعلیٰ وسیلے ہیں
بدیع و میرٹھی، مصباح، اسکندر، ولی، انور (رح)
بہارِ تقویٰ و اخلاص نے کیا پھل نکالے ہیں
سعید، اعجاز و عمران و عمر، عادل انس، یاسین
چراغِ علم و حکمت سے ضیا پاشی کے آلے ہیں
سلیمانی قیادت سایۂ شفقت کا پرتَو ہے
بدولت اِن کے باقی دل میں نورانی مقالے ہیں
مزید دیکھیںگلستانِ بنوری پھول تیرےسب نرالے ہیں
ترے دامن میں بستے کیسے کیسے اللہ والے ہیں
جمالِ یوسفی میں راز تیرے حسن کا پنہاں
تری شادابیوں کے ہر گلستاں میں حوالے ہیں
کمالِ احمدی میں جو عروجِ جاوداں پایا
اُسی فتح و ظفر کے اب تلک ہر سُو اُجالے ہیں
ترے ہر پھول کی خوشبو عجب تسکین رکھتی ہے
ترے آنگن نے سارے ہی شجر پھل دار پالے ہیں
حبیب اللہ، مولانا عطاء، یوسف، نظام الدین (رح)
شہادت کا جو میداں ہو تو سب کے سب جیالے ہیں
سرورِ قلب ہے بھرپور تیری ان فضاؤں میں
خدا نے خوب انوارات اس میں بھر کے ڈالے ہیں
بصورت احمد و امداد تجھ پر خیر برسا ہے
جواہر قیمتی تیرے لیے رب نے سنبھالے ہیں
محب، انعام، قاسم، غزنوی، سجاد، فضل و زیب
فرامینِ نبوت کے بہت اعلیٰ وسیلے ہیں
بدیع و میرٹھی، مصباح، اسکندر، ولی، انور (رح)
بہارِ تقویٰ و اخلاص نے کیا پھل نکالے ہیں
سعید، اعجاز و عمران و عمر، عادل انس، یاسین
چراغِ علم و حکمت سے ضیا پاشی کے آلے ہیں
سلیمانی قیادت سایۂ شفقت کا پرتَو ہے
بدولت اِن کے باقی دل میں نورانی مقالے ہیں
یہ آنکھوں کے دھوکے، یہ دھوکے کی آنکھیں
جنھیں غرق کردیں وہ مڑ کر نہ دیکھیں
مزید دیکھیںجنھیں غرق کردیں وہ مڑ کر نہ دیکھیں
ابد تو ابد تُو ازل کا حسیں ہے
چمکدار رخسار روشن جبیں ہے
تُو احمدؐ، مدثرؐ، مزملؐ، تُو یاسینؐ
تری شان قرآں تُو صادق امیں ہے
وہ نامِ گرامی جو آدمؑ کو بھایا
ترے نام کی لوح عرشِ بریں ہے
فرنگی بھلا سمجھے کیا وہ اشارہ
کہ آقاؐ پہ قربان روئے زمیں ہے
پیام آخری لے کہ رب کا تُو آیا
تُو سیّد، تُو ہی خاتم المرسلیں ہے
حبیبِ خدا تیری کیا شان ہوگی
ابوبکر سا جب ترا جانشیں ہے
محمدؐ کے حسّانؓ کے کیا ہی کہنے
کلامِ مساؔفر تو کچھ بھی نہیں ہے
مزید دیکھیںچمکدار رخسار روشن جبیں ہے
تُو احمدؐ، مدثرؐ، مزملؐ، تُو یاسینؐ
تری شان قرآں تُو صادق امیں ہے
وہ نامِ گرامی جو آدمؑ کو بھایا
ترے نام کی لوح عرشِ بریں ہے
فرنگی بھلا سمجھے کیا وہ اشارہ
کہ آقاؐ پہ قربان روئے زمیں ہے
پیام آخری لے کہ رب کا تُو آیا
تُو سیّد، تُو ہی خاتم المرسلیں ہے
حبیبِ خدا تیری کیا شان ہوگی
ابوبکر سا جب ترا جانشیں ہے
محمدؐ کے حسّانؓ کے کیا ہی کہنے
کلامِ مساؔفر تو کچھ بھی نہیں ہے
تخیل میں فقط تیرا فسوں چھایا ہوا ہے
یہ صحرا سے نکل کر باغ میں آیا ہوا ہے
ہمیں دریا کی موجوں سے کوئی مطلب نہیں ہے
سمندر نے ہمارا ذہن اُکسایا ہوا ہے
مزید دیکھیںیہ صحرا سے نکل کر باغ میں آیا ہوا ہے
ہمیں دریا کی موجوں سے کوئی مطلب نہیں ہے
سمندر نے ہمارا ذہن اُکسایا ہوا ہے
کہیں پر خار رکھے ہیں کہیں گلزار رکھے ہیں
یہ گلشن ہے یا بس یوں ہی در و دیوار رکھے ہیں
یہ دھرتی دیکھنے کو تو بہت بدحال لگتی ہے
مگر رب نے کچھ اس میں صاحبِ اَسرار رکھے ہیں
ترے دیدار کی امید میں کتنے تڑپتے ہیں
خدا نے تیرے چہرے میں عجب انوار رکھے ہیں
یہ دیوانوں کی مجلس ہے، یہاں اپنی نہیں چلتی
یہاں ہر اک نشست پہ عشق سے سرشار رکھے ہیں
مزید دیکھیںیہ گلشن ہے یا بس یوں ہی در و دیوار رکھے ہیں
یہ دھرتی دیکھنے کو تو بہت بدحال لگتی ہے
مگر رب نے کچھ اس میں صاحبِ اَسرار رکھے ہیں
ترے دیدار کی امید میں کتنے تڑپتے ہیں
خدا نے تیرے چہرے میں عجب انوار رکھے ہیں
یہ دیوانوں کی مجلس ہے، یہاں اپنی نہیں چلتی
یہاں ہر اک نشست پہ عشق سے سرشار رکھے ہیں
پہنچ رہا ہے کہاں کہاں دیکھ نام اپنا
مگر یہ نام و نمود تھوڑی ہے کام اپنا
ضعیف لفظوں میں خشک و غمگیں مشاہدے ہیں
یہ کیا کہ سب کو سناتے پھرنا کلام اپنا
خودی کا انکار کر کے کہنے لگا ہے ساقی
یہ کیسے درجے پہ آن پہنچا مقام اپنا
رہی یہ حسرت، زیارت ان کی قریب سے ہو
ملی جو قربت لرز گیا تن تمام اپنا
شہادتوں میں تو نسبتیں فرق ڈالتی ہیں
وہاں پہ اُن کا، یہاں پہ چلتا ہے دام اپنا
ہمارا شیوہ، اطاعت اُن کی، عبادت اُن کی
بروزِ محشر تلک چلے گا نظام اپنا
یہاں پہ ؔہانی نہیں ہے مطلوب گل کی برسات
یہاں تمنّا کا خون کرنا ہے کام اپنا
مزید دیکھیںمگر یہ نام و نمود تھوڑی ہے کام اپنا
ضعیف لفظوں میں خشک و غمگیں مشاہدے ہیں
یہ کیا کہ سب کو سناتے پھرنا کلام اپنا
خودی کا انکار کر کے کہنے لگا ہے ساقی
یہ کیسے درجے پہ آن پہنچا مقام اپنا
رہی یہ حسرت، زیارت ان کی قریب سے ہو
ملی جو قربت لرز گیا تن تمام اپنا
شہادتوں میں تو نسبتیں فرق ڈالتی ہیں
وہاں پہ اُن کا، یہاں پہ چلتا ہے دام اپنا
ہمارا شیوہ، اطاعت اُن کی، عبادت اُن کی
بروزِ محشر تلک چلے گا نظام اپنا
یہاں پہ ؔہانی نہیں ہے مطلوب گل کی برسات
یہاں تمنّا کا خون کرنا ہے کام اپنا
کبھی جو ان سے جدائی ہوگی
نجانے کیسی رہائی ہوگی
عجب نہیں اس کا تلخ لہجہ
کسی نے جاں آزمائی ہوگی
بہشتی دنبہ اتر گیا ہے
چھری پِسر پر چلائی ہوگی
ہٹا دیےہیں تمام پردے
براہِ راست آشنائی ہوگی
میں دلدلِ معصیت سے تنگ ہوں
الہی! کب پارسائی ہوگی؟
وہ شخص جاتے ہوئے رکا ہے
صدائے محبوب آئی ہوگی
مزید دیکھیںنجانے کیسی رہائی ہوگی
عجب نہیں اس کا تلخ لہجہ
کسی نے جاں آزمائی ہوگی
بہشتی دنبہ اتر گیا ہے
چھری پِسر پر چلائی ہوگی
ہٹا دیےہیں تمام پردے
براہِ راست آشنائی ہوگی
میں دلدلِ معصیت سے تنگ ہوں
الہی! کب پارسائی ہوگی؟
وہ شخص جاتے ہوئے رکا ہے
صدائے محبوب آئی ہوگی